پہلی دو لائنوں میں مصنف کہہ رہا ہے کہ جو بے حس ہو اس کے پیش نظر صرف وقتی مفاد ہوتا ہے۔ ایسا نہیں ہے ویسے۔۔۔ تاریخ شاہد ہے کہ بے حس لوگوں نے جب بھی فتوحات کے جھنڈے گاڑے ہیں وہ مدتوں دنیا نے دیکھے ہیں۔ اور آج بھی مثالی ہیں۔ اور بے حس لوگوں نے بھی بڑی بڑی قربانیاں دیں ہیں۔ کہ ان کے پیش نظر جو منزل...