اس کی وجہ میرے خیلا میں یہ ہے کہ اصل میں مصری لہجہ اینٹرٹینمنٹ کی دنیا پر غالب ہے اور اسی تتبع میں شامی اور لبنانی حتی کہ یمنی لہجوں میں ق کو ع (بلکہ الف) کیا جاتا ہے ۔ ویسے سعودی اور اماراتی لہجوں میں ق کو عموما گ کیا جاتا ہے ۔
فارسی میں نہ صرف یہ ۔ شگفتے، ریحانے بلکہ الف کو واؤ بھی کر نا شامل ہے ۔
مثلاََ ۔ جانم ۔کو جُونم ۔ بمعنی میری جان ( اور بہ گمان میرا جون کا مہینہ :)) ۔ گِران کو گِرُون۔ وغیرہ ۔۔۔اور یہ محض بولنے کے تلفظ تک ہے لکھا سب "ٹھیک :)" ہی جاتا ہے ۔
شاید جو تراکیب ا ور محاورات اردو میں بطور معیار مقبول ہیں ان کو ترجیح دی جانی چاہیئے۔ میری مراد بعد ازاں کو پس ازاں کہنے سے ہے۔اگر چہ پس ازاں خالص تر ترکیب ہے۔ایک رائے۔
آپ کی وضاحت کا شکریہ کہ یہ نکتہ بھی یقیناََ قابل توجہ ہے ۔آپ کی پسند اور وضاحت بھی یقیناً پر خلوص ہے۔۔۔ یہاں میں اتنا کہنا چاہوں گا کہ میں ذاتی طور پر" اکثر " اس نوع کے دقیق مقامات میں "المعنی فی بطن الشاعر " گہرائی کا سہارا لیتا ہوں اور ایسے نکات کی بابت حتی المقدور اپنی فکر کے مطابق...
نعت نبیﷺ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یہ قلب و نظر ہے برائے مدینہ
نثارِ مدینہ ،فدائے مدینہ
مدینے کے دن ہوں مدینے کی راتیں
خدا دیکھیے ! کب دکھائے مدینہ
وہ ذکر نبی ﷺ ہو کہ ذکرِ خدا ہو
مجھے ہر طرح یاد آئے مدینہ
مقام آپ کا عرشِ اعظم سے آگے
زہے شانِ خیر الورائے مدینہ
مدینہ مدینہ مدینہ مدینہ
مجھے ہر طرح یاد...
نیرنگ بھیا ! اس کی کتابت میں تھوری سی بہتری کی گنجائش ہے ۔ قافیے کی ہر لفظ میں ایک "ی" شامل ہو گی۔
اور مطلع میں پہلے مصرع کے " از" کا الف بھی لکھا جائے گا۔
کچھ کلمات اور بھی فرق ہے لیکن ۔بڑے کلام میں اکثر ایسا ہوتا ہے۔
مجھے لڑکپن سے سبز چمن کے بجائے سرو سمن یاد ہے۔واللہ اعلم۔
آپ نے بھائیوں کی اچھی اچھی باتیں چن کر لکھی ہیں ۔ بالکل ایسے جیسے (مشرقی) بہنوں کا مسلمہ شعارہے ۔
در اصل بھائی بھی اپنی بہنوں سے ناراض نہیں ہوتے خواہ کوئی وجہ ہی کیوں نہ ہو ۔
کوٹری کے مقام پر جو برج دریائے سندھ کے اوپر ہے وہ تو شاید رُبع میل ہوگا اور شاید مخدوش بھی۔میں جب بھی پاکستان جاتا ہوں گاڑی اس سے ضرور گزرتی ہےکراچی سے شہدادپور جاتے ہوئے۔:)
اچھا تو یہ بےبرج اور گولڈن گیٹ برج دوالگ الگ مقامات ہیں ۔
لیکن شکل صورت سے تو ایک ڈھانچہ ہے دونوں کا خصوصاََ سسکو کمپنی کے لوگو کے تناظر میں کیونکہ سادہ سے لوگو میں تو بنیادی ھیکل کی شبیہ ہے۔فرق محض بڑے ستونوں میں اور رنگ میں ہے ۔درست؟
تو پھر اس برج کا نام کیا ہے ۔ اس کے ڈیزائن پر ہی مشہور زمانہ ٹیلیکوم وینڈر سسکو سسٹمز () کمپنی کا لوگو ہے ۔ ہمارے روزانہ کے کام میں آٹھ گھنٹوں میں سے تقریبا سات سے زیادہ اسی کمپنی کی مشینوں (راؤٹرز) میں لاگ ان رہنا پڑتا ہے۔