طریقہ تو یہی اختیار کیا جانا چاہئیے کہ انسان دوسروں کی چیز کی بھی ویسی قدر کرے جیسے اپنی کسی چیز کی۔ مگر ایسا ہوتا نہیں ہے۔ بہت کچھ سیکھنے کو مل رہا ہے۔
وہی تو۔ دائیں یاتھ پہ چائے گری۔ اس کی تو سمجھ آتی ہے کہ ہم اس کو نظر انداز کر رہے آج کل مگر سوئی بھی اسی ہاتھ کی انگلی میں بار بار چبھی۔ اس کے ساتھ تو ہمارا ساتھ دن رات کا ہے مگر پھر بھی چبھن دے گئی۔ :cry:
ٹھاہ ٹھاہ سے بھی جام چل جانا ہوتا دیوانوں کا۔ اور آواز یہی آنی
حسن حاضر ہے محبت کی سزا پانے کو
کوئی پتھر سے نہ مارے میرے دیوانے کو
یاد رہے کہ حسن کو پیش سے پڑھنا ہے نہ کہ حسن محمود جماعتی بھیا سمجھ لینا ہے۔