اپنی تنہائی مرے نام پہ آباد کرے
کون ہو گا جو مجھے اس کی طرح یاد کرے
دل عجب شہر کہ جس پر بھی کھلا در اس کا
وہ مسافر اسے ہر سمت سے برباد کرے
اپنے قاتل کی ذہانت سے پریشان ہوں میں
روز اِک موت نئے طرز کی ایجاد کرے
اتنا حیراں ہو مری بے طلبی کے آگے
واقفس میں کوئی در خود میرا صیاد کرے
سلب بینائی...
جو جس شعبہ میں عمل کی راہ اپناتا۔۔ کامیابی پاتا ہے۔۔۔ تاتاریوں نے بربریت کے راستے کو شعار عمل بنایا اور کامیاب رہے۔۔۔ مسلمان تو صدیوں سے بھیڑوں کا روپ دھارے ہیں۔۔۔ جن کو کبھی کوئی ہانک رہا تو کبھی کوئی۔۔۔ پر یہ عمل کی سیڑھی پر واپس آنے کو تیار نہیں۔۔۔
خود احتسابی کو جتنے ہی خوبصورت الفاظ میں پیش کر دو۔۔۔۔ یہ قوم صرف اسکو پل بھر کو سراہے گی۔۔۔ اور پھر آگے اپنی راہ پر بڑھ جائے گی۔۔۔ ان کے شب و روز میں ایسی باتوں سے کوئی ہلچل نہیں ہونے والی۔۔۔۔۔
اسی طرز پر قرۃالعین اعوان کا بھی اک دھاگہ تھا۔۔۔ :)
ہمارے شب و روز میں کوئی خاص تنوع نہیں رہا۔۔۔۔ تو ہمارا سیکھنے کا عمل بھی تالاب کے پانی کی مانند ٹھہرا ہے۔۔۔ کبھی کوئی بات باہر سے آکر لگتی ہے۔۔۔ کچھ سننے کو ملتا ہے۔۔۔ پھر کچھ لہریں ذہن کے نہاں خانوں سے سفر کرتی کرتی عمل کی طرف جاتی ہیں۔۔۔ مگر...