کبھی فلک کو پڑا دل جلوں سے کام نہیں
اگر نہ آگ لگا دوں، تو داغؔ نام نہیں
وفورِ یاس نے یاں کام ہے تمام کیا
زبانِ یار سے نکلی تھی نا تمام نہیں
وہ کاش وصل کے انکار پر ہی قائم ہوں
مگر انہیں تو کسی بات پر قیام نہیں
سنائی جاتی ہیں درپردہ گالیاں مجھ کو
جو میں کہوں، تو کہیں، آپ سے کلام نہیں
وہ آئیں...