انسانیت کو قتل کیا جائے اس لیے
دیر و حرم کی آڑ میں مقتل ہے آج بھی
اب بھی وہی ہے رسم و روایت کی بندگی
مطلب یہ کہ ذہن مقفل ہے آج بھی
باتیں تمہاری شیخ و برہمن! خطا معاف!
پہلے کی طرح گیر مدلل ہے آج بھی
واہ واہ۔۔۔ کیا موجودہ زمانے کی عکاسی کرتے اشعار ہیں۔۔ زبردست
سرکار کہیں رہتا بھی ہے اک سازمانہ
جس دہر پہ نازاں ہو وہ میرا بھی کبھو تھا
یہ بات بہت خوف میں کرتی ہے اضافہ
باہر تھا بھلا کون جو تصویر میں تو تھا
کیا کہنے۔۔۔ بہت ہی عمدہ انتخاب۔۔۔
ساحر میرا پسندیدہ شاعر ہے۔ اور آج کل مجھے دوبارہ اس کی شاعری ہی یاد آرہی ہے ہر بات پر۔۔۔ :(
نہیں یہ ایسے ہی ہے جیسے میں نے لکھا ہے۔ :) ٹائپو نہیں ہے۔ :)
کل بھی بوندیں برسی تھیں
کل بھی بادل چھائے تھے
اور کوئی نے سوچا تھا
بادل یہ آکاش کے سپنے ان زلفوں کے سائے ہیں
دوش ہوا پر میخانے ہی میخانے گھر آئے ہیں
رت بدلے گی پھول کھلیں گے جھونکے مدھ برسائیں گے
اُجلے اُجلے کھیتوں میں رنگین آنچل لہرائیں گے
چرواہے بنسی کی دھن سے گیت فضا میں بوئیں گے
آموں کے...
اپیا اب میں یہاں ساحر کا کافی کلام شریک کروں گا۔۔۔ ایسا کلام مجھے بہت پسند ہے۔۔ جیسے میرے گیت، خون پھر خون اور شکست ہوگیا تیرا فسوں زیبائی۔۔۔ ساحر نے بہت کمال لکھا ہے اس ضمن میں۔۔ :) اب جون ایلیاء کے ساتھ ساتھ یہ بھی شریک ہوا کرے گا۔۔ :)
محسن اس کا یہ والا مصرعہ "خون پھر خون ہے بہتا ہے تو جم...
یہ تو ملائکہ گڑیا زبردست لگ رہی ہے۔۔ اب کبھی کھلاؤ تو پتا چلے کہ کھانے میں کیسی ہے۔۔ :) مجھے اچھے کھانے کھانے کا بہت شوق ہے۔۔۔ پر بنانے نہیں آتے۔۔۔ :) ابھی بیگم صاحبہ کو پڑھاتا ہوں ترکیب :)
آج ہم نے پسندیدہ کلام میں اس کو تلاشنے کی کوشش کی تو پتا چلا کہ ابھی تک یہ مشہور زمانہ شاعری اس زمرے کا حصہ نہیں بنی۔
ظلم پھر ظلم ہے، بڑھتا ہے تو مٹ جاتا ہے
خون پھر خون ہے، ٹپکے گا تو جم جائے گا
خاک صحرا پہ جمے یا کف قاتل پہ جمے
فرقِ انصاف پہ یا پائے سلاسل پہ جمے
تیغ بیداد پہ، یا لاشۂ بسمل...