غربت کا مارا عیسیٰ دبئی کمانے پہنچا تو قسمت مہربان رہی۔
اُلٹے سیدھے دو چار جیک پاٹ لگے تو پیسوں میں کھیلنے لگا۔
ترقی کرتے کرتے بڑا بزنس مین بنا اور دفتر آسمان کو چھوتی اونچی عمارت میں بنا لیا۔
بوڑھے باپ کی یاد آئی تو اسے وزٹ ویزا بھیج کر بلوایا،
ڈرائیور کو نشانی بتا کر ایئرپورٹ لینے بھیجا۔...