سنگ و خشت ہیں مقید اور سگ آزاد۔۔۔۔۔ :) خیر ہم اس پسینے کی بات نہ کر رہے تھے۔۔۔ جو ارباب اختیار کی عنایت ہے۔۔۔ بلکہ ہم تو اس کی بات کر رہے تھے۔۔۔۔ جو عوامی سطح پر معیوب و معتوب سمجھا جاتا ہے۔۔۔ :skull::tongue:
میں جون صاحب کے کلام سے ایسا کلام نمونہ کے طور پر پیش کرسکتا ہوں۔۔۔ جس میں ہوس اور حرص کو موضوع بنایا ہے۔۔ اور کیا خوب موضوع بنایا ہے :) لیکن بات یہ ہے کہ جب جون بھائی ہوس کی بات کرتے ہیں تو لہجہ اتنا بیباک کر لیتے ہیں کہ عوامی سطح پر شامل کرتے ہوئے بھی دل گھبراتا ہے۔ :)
جون! تمہیں یہ دور مبارک، دُور غمِ ایاّم سے ہو
اک پاگل لڑکی کو بھُلا کر اب تو بڑے آرام سے ہو
ایک ادھوری انگڑائی کے مستقبل کا خون کیا
تُم نے اس کا دل رکھا یا اس کے دل کا خون کیا
یہ جو تمہارا سحرِ تکلّم حسن کو کرتا ہے مسحور
بانو، جمال آرا اور فضّہ کے حق میں ہے اک ناسور
خونِ جگر کا جو بھی فن ہے سچ...