یعنی آپ اس بات کو مانتے ہیں کہ ایک عالم تنخواہ پاتے ہوئے بھی اتنی ہی فکری آزادی اور اتنی ہی آسانی سے مذہب کی تشریح کرے گا جتنی آسانی سے ایک ایسا عالم جس کا روزگار اس سے وابستہ نہیں ہے؟
براہ کرم قرآن اور سائنس کو مکس نہ کیا جائے۔ ورنہ ہمیشہ کی طرح بدمزگی ہی پیدا ہوگی
تاہم اگر مکس کرنا چاہتے ہیں تو پھر ہر طرح کے سوالات کے لئے تیار رہیئے :)
نیٹ پر موجود کتب دو طرح کی اجازت سے ہوتی ہیں۔ ایک تو یہ کہ ناشرین یا مصنفین کسی مخصوص ویب سائٹ کو اجازت دیتے ہیں۔ دوسری قسم میں عمومی اجازت ہوتی ہے کہ کوئی بھی اس کو نیٹ پر شیئر کر سکتا ہے۔ اس لئے وضاحت کر رہا ہوں :)
پہلے تو آپ یہ بتائیے کہ اسلام میں قرآن اور حدیث سے کہاں یہ ثابت ہوتا ہے کہ تنخواہ دار عالم سے ہی دین کا علم حاصل ہو سکتا ہے اور یہ کہ الہامی احکامات کی تشریح انسان اپنے علم کی مدد سے کر سکتے ہیں؟