کیا ہی اچھی غزل ہے، بشیر بدر کے خاص اسلوب کی آئنہ دار۔ مگر یہ شعر غزل میں ایسے محسوس ہوا جیسے گلاب بن کے مہک رہا ہے، اور چراغ بن کے جگمگا رہا ہے، لاجواب۔
وہ فراق ہو کہ وصال ہو، تری یاد مہکے گی ایک دن
وہ گلاب بن کے کھلے گا کیا، جو چراغ بن کے جلا نہ ہو
بہت شکریہ آپ کا ارسال فرمانے کیلیے۔