ریت پر جو گھر بنائے ہم نے
ہوا کے ظلم آزمائے ہم نے
کتنی دفعہ یونہی مُسکرائے
کتنے غم یوں چُھپا ئے ہم نے
پیغامِ خوشی آئے ہمارے نام
غیروں کے پتے بتائے ہم نے
جب موت کی آہٹ سنائی دی
تو آس کے پنچھی اُڑائے ہم نے
نہ پُوچھ کہ خود ہمیں بھی خبر نہیں
تیرے خط کیوں جَلا ئے ہم نے
کانٹوں پر ہم نے ہاتھ...