ہر چند زندگی کا سفر مشکلوں میں ہے
انسان کا عکس پھر بھی کئی آئینوں میں ہے
آہو کی طرح جست لگا ہر کرن کے ساتھ
جگنو کے گرد تیز ھوا جنگلوں میں ہے
وہ جنگِ زرگری ہے کہ محشر بپا ہوا
ہر شخص ایک عمر سے اگلی صفحوں میں ہے
تجھ کو سکوں نہں ہے تو مٹی میں ڈوب جا
آباد اک جہاں زمیں کی تہوں میں...