وہ جو ہمرہی کا غرور تھا، وہ سواد راہ میں جل بجھا
تو ہوا کے عشق میں گھل گیا میں زمیں کی چاہ میں جل بجھا
جو کتاب عشق کے باب تھے تری دسترس میں بکھر گءے
وہ جو عہد نامہء خواب تھا وہ میری نگاہ میں جل بجھا
ہمیں یاد ہو تو سناءیں بھی ذرا دھیان ہو تو بتاءیں بھی
کہ وہ دل جو محرم راز تھا کہیں رسم...