ہاہاہاہا لا جواب۔۔۔ یہی تو آپ کی حاضر جوابی اور قلم کی کاٹ ہے جس پر ہم نے آپ کو کتاب لکھنے کا مشورہ دیا ہے۔ ورنہ تو یہاں کئی نام نہاد مزاح نگار موجود ہیں جو بزعم خود مشتاق یوسفی کے بھی باپ ہیں۔ انہیں کبھی کتاب کیا صفحہ لکھنے کو بھی نہیں کہا کہ کاغذ جیسی قیمتی شے برباد کیا کرنی۔
ایسی ہی کتابیں پڑھ کے ہم بھی موم بتی کی لو کو تکنے کی مشق کرتے تھے۔ ایک دن ابو نے دیکھ لیا اور دو چار چپتیں رسید کر کے فرمایا کہ آنکھیں خراب کرنی ہیں کیا؟ لیکن یہ کام ہم نے 7 سال کی عمر میں نہیں کیا تھا۔ یہ شاید 11 یا 12 سال کی عمر کا قصہ ہے
تم جس جانب جا رہی ہو وہ نظر آ رہا ہے مجھے۔ اسی جانب سے جواب دے دیتا ہوں۔۔۔ موجودہ محبوبائیں تو منع کرتی ہیں کتاب چھپوانے سے یہ سوچ کر کہ پتا نہیں کون کون سی منحوس سابقہ محبوباؤں کے لیے کی ہوئی ہے شاعری اور سابقہ محبوبائیں بھی کتاب کے حق میں نہیں ہوں گی کہ انہیں راز فاش ہونے کا خطرہ ہو گا۔ :laughing:
بالکل سوچیں۔ یہ تو نہیں کہتا کہ ہاتھوں ہاتھ بکے گی کیوں کہ ہاتھوں ہاتھ تو کسی مصنف کے مشہور ہونے کے بعد ہی اس کی کتابیں بکتی ہیں لیکن یہ ضرور کہتا ہوں کہ جو پڑھے گا وہ دوسروں کو بھی پڑھنے کا مشورہ ضرور دے گا۔