ملے کسی سے نظر تو سمجھو ، غزل ہوئی
رہے نہ اپنی خبر تو سمجھو، غزل ہوئی
ملا کے نظروں کو والہانہ حیا سے پھر
جھکا لے کوئی نظر تو سمجھو غزل ہوئی
ادھر مچل کے انہیں پکارے جنوں میرا
بھڑک اٹھے دل اُدھر تو سمجھو غزل
اداس بستر کی سلوٹیں جب تمہیں چبھیں
نہ سو سکو رات بھر تو سمجھو غزل ہوئی
وہ بدگما...