بچپن سے ہمارا پسندیدہ ملی نغمہ۔۔۔ سوہنی دھرتی اللہ رکھے قدم قدم آباد ۔ شہناز بیگم
سوہنی دھرتی اللہ رکھے قدم قدم آباد تجھے
جب تک ہے یہ دنیا باقی ہم دیکھیں آزاد تجھے
تیرا ہر اک ذرہ ہم کو اپنی جان سے پیارا
تیرے دم سے شان ہماری تجھ سے نام ہمارا
دھڑکن دھڑکن پیار ہے تیرا قدم قدم پر گیت رے
بستی بستی...
یہ سراسر آپ کی محبت اور ذرہ نوازی ہے جاسمن بہن۔
ہر انسان کی شخصیت کے کئی روپ ہوتے ہیں اور ہر روپ ایک الگ دنیا لیے ہوئے ہوتا ہے۔ ابن انشا کی شاعری پڑھیں تو وہ ایک مختلف انسان نظر آتا ہے اور اگر اس کی نثر پڑھیں تو لگتا ہی نہیں کہ یہ اسی شاعر ابن انشا نے لکھی ہے۔
مطلع تا مقطع تمام اشعار خوب ہیں۔ اس خوبصورت تخلیق پر مبارک باد راحیل صاحب۔
اس مصرع میں شاید ٹائپو ہے۔دیکھ لیجیے گا:
اور یہاں ایک سوال ہے کہ لفظ اندھیرا کی نون تو اعلانیہ نہیں بلکہ غنہ ہوتی ہے جو وزن میں شمار نہیں ہوتی۔ کیا لفظ اندھیر میں ایسا نہیں؟
ایسی اغلاط سے بھری ہوئی اردو ایک ایسے اردو اخبار میں جسے مجیب الرحمان شامی نکالتے ہیں۔۔۔ حد ہے۔۔۔
اف۔۔۔ کتنی بری اردو لکھی ہے۔ ایک جملے میں ساخت کی دو غلطیاں۔
یہاں درد مذکر تھا اور
اور یہاں پہنچتے پہنچتے درد کی جنس تبدیل ہو گئی اور بے چارا مونث بن گیا۔
ہمارے چوکلوں اس طرح کی پوزیشن۔۔۔ یہ بھی...
آپ کے اس جملے سے آپ کے جاسمن کو کم یا زیادہ جاننے کا کیا تعلق ہے؟
آپ نے مجھ سے ہی مصرع کی تشریح دریافت کی تھی۔ اور اس کا جواب میں نے ہی یہ دیا تھا کہ شاعر اپنے شعر میں مفہوم و معانی کا دائرہ وسیع رکھتا ہے
اشاروں کنایوں میں تو کئی مقامات پر خدا بھی بات کر رہا ہوتا ہے۔ وہاں آپ کو اعتراض نہیں ہوتا بلکہ اسے خوبی کے طور پر لیتے ہیں۔ یہاں آپ اشاروں کنایوں میں بات کرنے پر غلط کا ٹھپا لگا رہے ہیں۔
بہت شکریہ اکمل بھائی۔ محبت ہے آپ کی۔ تازہ غزل کی بابت تو ابھی ظہیر بھائی کو جواب لکھا تھا کہ
رہی بات تشریح کی تو یہ کام قاری اور نقاد کا ہے کہ کس جانب لے کر جاتے ہیں۔ شاعر اپنے شعر کا حیطہ اتنا وسیع رکھتا ہے مختلف سوچ کے حامل افراد اپنی اپنی سوچ کے مطابق اس کا لطف اٹھا سکیں۔
بجا کہتے ہیں۔ ابھی تین چار روز قبل اپنے @ محمود احمد غزنوی صاحب نے جیومیٹری سے متعلق ایک انتہائی خوبصورت اینیمیشن فیس بک پر لگائی تھی ارو اس پر میری رائے بھی یہی تھی کہ کاش ایسی اینیمیشنز ہمارے دور میں موجود ہوتیں تو ہمارے لیے جیومیٹری سمجھنا کتنا آسان ہو جاتا۔
بہت شکریہ ظہیر بھائی۔ محبت ہے آپ کی۔
دراصل یہ غزل ایک فی البدیہہ طرحی مشاعرے کے لیے لکھی تھی۔ وہاں ہمارے دو بہت اچھے دوست شعرا بھی غزل لکھ رہے تھے اور ہم ساتھ ساتھ گفتگو بھی کر رہے تھے تو "کوئلے" کا قافیہ زیر بحث آیا اور اس پر ان دونوں دوست شعرا کی متفقہ رائے تھی کہ "کوئلے میں قید ہوں" کو...