ویسے تو افتخار عارف نے پورا نام بھی شعر میں برتا ہے لیکن "بے وزن"۔۔۔ افتخا ۔۔۔ رارف۔۔۔ بنا کے۔
تم بھی افتخار عارف
بارہویں کھلاڑی ہو
انتظار کرتے ہو
ایک ایسے لمحے کا
ایک ایسی ساعت کا
جس میں حادثہ ہو جائے
جس میں سانحہ ہو جائے
تم بھی افتخار عارف
تم بھی ڈوب جاؤ گے
تم بھی ٹوٹ جاؤ گے