حسرت دید کو ترسا کے چلا جاؤں گا
تیری الفت کی قسم کھا کےچلا جاؤں گا
اک نظر دور سے دیکھوں گا درو بام تیرے
دیدہ شوق کو تڑپا کےچلا جاؤں گا
اک برسے ھوے بادل کی طرح گزراہوں
موج میں آیا ہوں لہرا کےچلا جاؤں گا
رات کی رات مسافر ہوں تیری بستی میں
شب کا تارہ ہوں نظر آ کےچلا جاؤں گا...
آپنے اس سے پہلے جس طریقے ے لوگوں کا خون پیا شمشاد کے ساتھبھی وہی طریقہ استعمال کر سکتے ہیںمجھے کوئی احتراز نہیں جب کہ مجھے بھی شمشاد سے بدلے لینے ہیں:grin:
آج میں میرا دل تھا کوئی بنی بنائی پیش کرتکچن میں جانے کو جینہیں چاہا پر شمشاد صاحب بھی دھوکا دے گئےادھ گھنٹے تک تومیں سو بھی جاوؤں ی کہ اب یہاں ایک بج چکا ہے