تبھی تو ہمیں پرندوں سے اور پرندوں کو ہم سے اتنی محبت ہے۔ کیا معلوم کسی دن کسی پرندء کے سر پہ ہاتھ پھیرتے پھیرتے کوئی جادوئی کیل ہمارے ہاتھ میں چبھے، ہم پرندے کی تکلیف کے خیال سے اسے آہستگی سے کھینچ کر نکالیں اور کیل نکلتے ہی وہ پرندہ انسانی روپ میں سامنے کھٹا ہو کہ اس شہزادے کو سامری جادو گر نے...