اٹھ چلے شیخ جی تم مجلس رنداں سے شتاب
ہم سے کچھ خوب مدارات نہ ہونے پائی
جی میں منظور تھی جو آپ کی خدمت گاری
سو تو اے قبلۂ جات نہ ہونے پائی
خواجہ میر درد
مدارت
نہ سہی اور پر اتنی تو عنایت کرتے
اپنے مہمان کو ہنستے ہوئے رخصت کرتے
مبہم الفاظ میں ہم نے تجھے کیا لکھا ہے
تو کبھی روبرو آتا تو وضاحت کرتے
ھم نے غم کو بھی محبت کا تسلسل جانا
ہم کوئی تم تھے کہ دنیا سے شکایت کرتے
تسلسل