ذرا سوچئیے کہ ایسا کیسے ہو سکتا ہے کہ شاعر اپنی محبوبہ کے سامنے کسی اور کو چاہنے کا ذکر کرے چاہے وہ جنت ہی کیوں نہ ہو۔ کیا محبوبہ چاہے گی کہ اگلی دنیا میں اس کا شاعر محبوب اس سے الگ جنت میں رہے۔
ڑے ڑے ہماری آپا ہیں جو چاہے لکھیں۔ پٹھنا تو ہم نے اپنی مرضی سے ہے الفاظ چھوڑ چھوڑ کر۔ اور مطلب بھی اپنی مرضی ہی کا نکالنا ہے۔ فیر تہانوں کی تے سانوں کی۔
زندگی میں تو سبھی پیار کیا کرتے ہیں
میں تو مر کر بھی میری جان تجھے چاہوں گا
جھوٹا کہیں کا۔۔۔ اپنے اعمال نامے کی فکر کرنے کی بجائے پھر بھی چاہنے ہی کی فکر ہو رہی ہے۔
ژوب سے ڈنڈا لے کر آئی ہیں کیا مارنے کو۔ ادھار دے دیجئیے ۔ ہم روفی بھائی کے گھوڑوں کی باگیں کاٹ دینے کے بعد اپنے گھوڑے کو بے قابو ہو کر سر پٹ دوڑنے سے روکیں گے۔