جوانی کی اندھیری رات ہے ظلمت کا طوفاں ہے
مری راہوں سے نورِ ماہ و انجم تک گریزاں ہے
خدا سویا ہوا ہے، اہرمن محشر بداماں ہے
مگر میں اپنی منزل کی طرف بڑھتا ہی جاتا ہوں
غم و حرماں کی یورش ہے مصائب کی گھٹائیں ہیں
جنوں کی فتنہ خیزی حُسن کی خونیں ادائیں ہیں
بڑی پرزور آندھی ہے، بڑی کافر بلائیں ہیں
مگر...