اس بات سے مراد یہی ہے جو خلیل بھائی نے کہا.
ایک طرف اپنی خامیوں پر احساسِ ندامت اور دوسری طرف اللہ کی رحمت سے امید.
"میرا سب کچھ غلط ہے" کی کیفیت مایوسی نہیں بلکہ احساسِ ندامت کے ساتھ. اور پھر اللہ کی مغفرت کی طلب اور رحمت کی امید.
اس سے مجھے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی بات یاد آ گئی. مفہوم کچھ اس طرح ہے
کہ اگر فیصلہ ہوا کہ ایک بندہ جنت میں جائے گا تو مجھے امید ہے کہ میں ہی وہ شخص ہوں اور اگر یہ فیصلہ ہوا کہ ایک بندہ جہنم میں جائے گا تو مجھے خوف ہے کہ کہیں میں ہی نہ ہوں.
سر نہ سجدے سے اٹھا تاخیر پر تاخیر کر
ذرے جو تحتِ جبیں آئے انہیں اکسیر کر
بندۂ رب بن کے روشن اپنی تو تقدیر کر
عالمِ کن ہے ترا قبضے میں یہ جاگیر کر
عشقِ باری، حبِّ احمدؐ، انسِ مخلوقِ جہاں
یہ ہیں اجزائے ثلاثہ ان سے دل تعمیر کر
دامنِ ہستی میں تیرے جو ہیں ذرے خاک کے
ضربِ اللہ ھو سے اس مٹی کو پُر...
کافی پہلے ایک دفعہ گھر والوں کی غیر موجودگی میں بڑے بھائی اور میں نے مونگ کی دال بنانے کا پروگرام بنایا۔ جب بن کر تیار ہوئی چمچ پر لگی دال کو ڈونگے میں نکالنے کے لیے جھٹکا دیا۔ دال تو چمچ سے نہ اتر سکی، البتہ چمچ ڈونگے میں اور چمچ کا دستہ ہاتھ میں رہ گیا۔