طلوعِ صبحِ درخشاں، فروغِ حسنِ بہار
ترے لبوں کا تبسم، تری نظر کا خمار
نہ تیرے درد کی آہٹ، نہ میرے وہم کا شور
بہت دنوں سے ہے ویراں غزل کی راہ گزار
مزاجِ وقت کی تالیف عین ممکن ہے
گراں نہ گزرے تو ان کاکلوں کو اور سنوار
خوشی سے چھین لے میری متاعِ فکر مگر
مرے بدن سے یہ ملبوسِ عافیت نہ اتار
خود...