بات کیا آدمی کی بن آئی
آسماں سے زمین نپوائی
چرخِ زن اس کے واسطے ہے مدام
ہو گیا دن تمام رات آئی
ماہ و خورشید و ابر و باد سبھی
اس کی خاطر ہوئے ہیں سودائی
کیسے کیسے کیے تردد جب
رنگ رنگ اس کو چیز پہنچائی
اس کو ترجیح سب کے اوپر دی
لطفِ حق نے کی عزت افزائی
حیرت آتی ہے اس کی باتیں دیکھ
خودسری،...