وہ جو ہم میں تم میں قرار تھا تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو
وہی یعنی وعدہ نِباہ کا تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو
وہ جو لُطف مجھ پہ تھے پیشتر وہ کرم کہ تھا مِرے حال پر
مجھے سب ہے یاد ذرا ذرا تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو
وہ نئے گِلے وہ شکا یتیں وہ مزے مزے کی حکایتیں
وہ ہر ایک بات پہ رُوٹھنا تمہیں یاد ہو...