جلسے تو چلیے پارٹی کے خرچ پر ہی ہوں لیکن انتخابی مہم اور تشہیری اخراجات کوانتہائی محدود کرنا ضروری ہے۔ الیکشن کمیشن کو چاہیے کہ ہر پولنگ اسٹیشن پر اُمیدواروں کے کوائف اور ان کے منشور کی عوام تک رسائی کو یقینی بنائے۔ ساتھ ساتھ الیکشن کمیشن ٹی وی پروگرامز کے ذریعے ہر جماعت کے نمائندوں کے پیغامات...
اصل بات نظام کو تبدیل کرنے کی ہی ہے۔ یہ نظام تبدیل ہونا چاہیے اور انتخابات کو ان آلائشوں سے حتی الامکان پاک ہونا چاہیے۔
یہ بہت اچھی بات ہے کہ تحریکِ انصاف یا ایم کیو ایم والے متوسط طبقے کے اُمیدواروں کے اخراجات خود برداشت کررہ ہیں۔ تاہم یہ بھی ہو سکتا ہے کہ کل کو یہی جماعتیں اُمیدوار سے اس...
چونکہ پاکستان میں انتخابات نزدیک ہیں سو یہاں انتخابی مہمات اور ان پر ہونے والے اخراجات بھی زیرِ بحث آنے چاہیے۔ اس دھاگے کا مقصد یہی ہے۔
ہمارے ہاں طبقہ اُمراء کے ہمہ وقت اقتدار میں رہنے کی ایک بنیادی وجہ یہ بھی ہے کہ انتخابی مہم میں اس قدر پیسہ استعمال ہوتا ہے کہ غریب یا متوسط شخص تو انتخابات...
آپ پی ٹی آئی کو "ن لیگ" اور "ق لیگ" کی صف میں نہ کھڑا کریں۔ پی ٹی آئی ایک جمہوری جماعت ہے اس کا اپنا منشور ہے، جماعت میں عملی جمہوریت موجود ہے۔ یہاں نہ تو موروثیت ہے اور نہ خاندانی سیاست۔ یہاں نہ تو بلاول زرداری ہیں اور نہ حمزہ شہباز۔ پی ٹی آئی میں تو انتخابی ٹکٹ بھی جمہوری طریقے سے دیے گئے...
زندگی یُوں تھی کہ جینے کا بہانہ تُو تھا
ہم فقط زیبِ حکایت تھے، فسانہ تُو تھا
کیا خوبصورت شعر ہے۔
اسے پڑھ کر سلیم کوثر کا یہ شعر یاد آ گیا۔
خاموش سہی مرکزی کردار تو ہم تھے
پھر کیسے بھلا تیری کہانی سے نکلتے
واہ واہ واہ۔۔۔۔!
بہت خوب عمر بھائی۔۔۔!
اور بہت شکریہ کہ آپ نے ہماری فرمائش پر یہ غزل شاملِ محفل کی۔
پہلے شعر میں شاید کچھ کمی بیشی ہے اگر ممکن ہو تو دیکھ لیجے گا۔
شاید یہ شعر کچھ ایسا ہے:
تیرے بعد جانے یہ کیا ہوا ہرے آسماں کو ترس گئے
گھِرے ہم بھنور میں کچھ اس طرح کھلے بادباں کو ترس گئے
بات لڑکوں کی نہیں نوجوان قیادت کی ہو رہی ہے۔
کون سی سیاسی تربیت، وہی جو سیاسی گھرانوں میں پیدا ہونے والے "پیدائشی لیڈروں" کو دی جاتی ہے۔ جی بالکل انہی لوگوں کو تو لوٹ مار کی تربیت دی جاتی ہے جنہیں ناعاقبت اندیش لوگ بار بار ملک لوٹنے کا موقع فراہم کر دیتے ہیں۔
اور کون سا نظریہ، پی ٹی آئی کے...
واہ کیا بات ہے۔۔۔۔!
اگر اب بھی کوئی شخص پیشہ ور (کئی بار کے آزمائے ہوئے) سیاست دانوں کو اپنے ووٹ کا اہل سمجھتا ہے تو وہ یہ انٹرویو دیکھے اور پھر اپنے لیڈر کا عمران خان کے ساتھ موازنہ کرے ۔۔۔! پاکستان کے لئے جو تدبر، تفکر اور فلسفہ عمران خان کے ہاں ملتا ہے کسی اور لیڈر سے اس کی توقع بھی نہیں...
یہی تو فرق ہے عمران خان میں اور دیگر پیشہ ور سیاست دانوں میں۔
تعلیم ہماری حکومتوں کی ترجیح کبھی بھی نہیں رہی۔ ان کا کام تو وزیروں کی قطاریں لگانا ہے۔ بڑی بڑی کابینہ بنانا، ہر ہر مسئلے پر کمییٹیاں بنا بنا کر فنڈز کھانا ہے۔ کوئی ایک مسئلہ حل نہیں کر سکے یہ پرانے پیشہ ور سیاست دان۔ جعلی ڈگری...
جی اصل انقلاب تو تب ہی ہوگا جب لوگ ووٹ کے ذریعے تبدیلی لائیں گے لیکن کیا کیجے کہ یہاں لوگ "لکیر کے فقیر" ہیں اور اب بھی "پیپلز پارٹی" اور "ن لیگ" کو آزمانے کی خواہش رکھتے ہیں۔ :)