ٹؤئٹر، فیس بک پر تو ہر ہر جماعت کے مداحین طرح طرح کی زبان بولتے نظر آتے ہیں (فیس بک پر تو سیاسی حمایتیوں کا لب و لہجہ بہت خراب ہی ہوتا ہے)۔ آپ کو چاہیے کہ ہر جماعت کے مداحین کے "کلمات" ٹوئٹر اور فیس بک پر پڑھیے پھر یقیناً آپ کو صرف تحریکِ انصاف سے شکایت نہیں رہے گی۔
ایک شعر ایک نعرہ آپ کی اپنی سیاسی پارٹی اور آپ کی مخالف سیاسی پارٹی کے لئے:
دے رہے ہیں تمھیں جو لوگ رفاقت کا فریب
اُن کی تاریخ پڑھو گے تو دہل جاؤ گے
اقبال عظیم
یوں تو خطیبانہ صلاحیتیں ضروری نہیں ہے کہ ہر شخص میں ہوں اور نہ ہی یہ ضروری ہے کہ جس میں خطیبانہ صلاحیتیں ہوں وہ قوم کا بہترین رہنما بھی ثابت ہو ۔ تاہم اپنا موقف تو بیان کیا جا سکتا ہے۔ نواز شریف اور دیگر لیڈرز کو ہمت کرنی چاہیے۔
اچھی بات ہے باقاعدہ مباحثے میں کوئی حرج نہیں ہے۔
اگر مناسب طریقے سے کسی کو نیچا دکھائے بغیر اپنے منصوبے اور اُن کو عملی جامہ پہنانے کی حکمتِ عملی (موجود وسائل اور درپیش حالات کے تناظر میں) کو سامنے لایا جائے تو یہ عوام کے لئے اچھا رہے گا کہ اپنے رہبرانِ ملت کو سُنیں اور سُن کر فیصلہ کر سکیں۔
ہاہاہا
ہم نے بھی بہت سے نئے پرانے گانے سن رکھے ہیں۔ اور یہ گیت تو مجھے بھی بہت پسند ہے۔ اور مسعود رانا کی کیا بات ہے۔
بس آج کل وقت نہیں ملتا ان سب باتوں کے لئے۔
میرا خیال ہے دو قومی نظریہ سے خان صاحب کی مراد یہی ہے کہ ہندو اور مسلم دو الگ الگ قومیں ہیں اور اسی نظریہ کی بنیاد پر پاکستان بنا۔
وکی پیڈیا پر بھی دو قومی نظریہ پر مضمون موجود ہے۔