@فرحت کیانی ۔۔۔۔! احتیاط ضروری تھی ورنہ لینے کے دینے پڑ سکتے تھے۔ :) :) بقول شاعر : "میں کچھ نہ کہوں اور یہ چاہوں کہ میری بات ۔۔۔ خوشبو کی طرح اُڑ کے ترے دل میں اُتر جائے" ۔۔۔ کیوں کہ ایسے معاملات میں کچھ کہنے سے خوفِ فسادِ خلق کا اندیشہ زیادہ ہوتا ہے۔ :) :)
کاشفی بھائی ۔۔۔۔! قافیے ردیف تو بدلتے رہتے ہیں، مشق کی خاطر مصڑع بھی بدلنا پڑتا ہے۔ بلکہ وقت کے ساتھ ساتھ انسان بھی بدل جاتا ہے۔ اُس کی سوچ، اُس کے خیالات، اُس کا برتاؤ سب چیزیں ہی عمر بھر تغیر پذیر رہتی ہیں۔ ہمیں تو دعا یہ کرنی چاہیے کہ جو بھی تبدیلی آئیے مثبت آئے۔ :) :)