اُبلا سُبلا ۔۔۔۔ اُبالا سُبالا
یہ دو مختلف محاورے ہیں مگر عام طور پر ایک ساتھ بولے جاتے ہیں۔ فی زمانہ تو پوری دنیا میں کھانا پکانا ایک آرٹ بن چکا ہے مگر اب بھی ایشائی کھانے اپنا جواب نہیں رکھتے اور ہر خاتون اس فن میں ماہر ہوتی ہے مگر جب کبھی اس کے برعکس ہوتا ہے تو پھر یہ محاورہ استعمال ہوتا...
مِرا نشیمن بکھر نہ جائے، ہوا قیامت کی چل رہی ہے
جو خواب زندہ ہے مر نہ جائے، ہوا قیامت کی چل رہی ہے
نہ جانے کیوں اِضطرار سا ہے، ہر اک پل بے قرار سا ہے
یہ خوف دل میں اُتر نہ جائے، ہوا قیامت کی چل رہی ہے
عجب سی ساعت ہے آج سر پر، کہ آنچ آئی ہوئی ہے گھر پر
دُعا کہیں بے اثر نہ جائے، ہوا قیامت...
پڑھتا ہے کوئی شعر، کوئی سُنتا ہے
منہ تکتا ہے کوئی، کوئی سر دُھنتا ہے
اربابِ نگاہ، رو لتے ہیں موتی
اندھا نقاد، کنکری چُنتا ہے!
(مرزا یگانہ چنگیزی لکھنوی)
:grin: آپ کا اندازہ بالکل غلط ہے۔۔۔ میں لڑکوں سے تو بالکل بھی ناراض نہیں ہوتا۔۔۔
اور آپ کی اصلاح درست ہے۔۔۔ "کھینچ" کی بجائے "کھنچ" ہے۔۔۔۔۔ شکریہ بیحد۔۔۔
اور یہ مصرعہ "ہم سنگِ دریا پہ بے ہوش پڑے ہیں" صحیح ہے میرے خیال میں۔۔۔۔
اصلاح کرنے کے لئے بیحد شکریہ۔۔۔۔ خوش رہیں۔۔۔سدا۔۔
آخری سجدہ
مِری زندگی ترے ساتھ تھی، مِری زندگی ترے ہات تھی
مری روح میں ترا نور تھا مِرے ہونٹ پر تری بات تھی
مرے قلب میں ترا عکس تھا، مری سانس میں تری باس تھی
ترے بس میں میرا شباب تھا، مری آس بھی ترے پاس تھی
ترے گیت گاتی تھی جب بھی میں مجھے چھیڑتی تھیں سہلیاں
مگر اُن پہ کھُل نہ سکیں کبھی مری...
رکھ یاد کہ اک روز تجھے مرنا ہے
اسباب یہاں کا یہیں سب دہرنا ہے
کر کوچ کا سامان اے مسافر کہ تجھے
اس منزلِ فانی سے سفر کرنا ہے
(بدرالدین صاحب بدر ۔۔۔بمبئی)
کسی کے نام
یہ اُلفت کی باتیں، محبت کی گھاتیں، جوانی کی راتیں، نہ پھر پاؤ گے
مِرے ساتھ اگر دادِ عشرت نہ دو گے، یہ دن یاد کر کر کے پچھتاؤ گے
حسینوں کی سُن کر وفاداریاں ہوگے بیحد خجل، دل میں شرماؤ گے
تم اپنا شباب اور میری مُحبّت، بہت یاد کر کر کے پچھتاؤ گے
مِرا تذکرہ بھی سنو گے کسی سے،...