میرے استادِ محترم کی ایک غزل ::
غزل
مرّیخ و ماہتاب نہیں چاہیئے مجھے
تم آسماں طلب ہو زمیں چاہیئے مجھے
پھرتا ہوں کب سے گھر کا اثاثہ لیے ہوئے
ملتا نہیں ہے جیسا امیں چاہیئے مجھے
قصرِ بسیط دل کی طلب ہے ہوا کرے
میں جانتا ہوں کتی زمیں چاہیئے مجھے
جس پر کسی کا طنز نہ تضحیک ہو گراں
ایسی شکن...
’’ شاعر یا تو ہوتا ہے یا نہیں ہوتا ‘‘
شاعر بننا کیا ہے ؟؟ سمجھا دیں !!
ویسے ایک بات پورے وثوق سے کہہ سکتا ہوں آپ میں شعرگوئی کی صلاحیت بدرجہ اتم موجود ہے ۔۔
بس اظہار کی آنچ کچھ کم ہے ۔۔ بڑھا لیں ۔۔ تو ۔۔ آپ مجھ ایسے کو پیچھے چھوڑ جائیں گی۔۔
خوش رہیں ۔:)