ٹہنی پہ کسی شجر کی تنہا
بلبل تھا کوئی اداس بيٹھا
کہتا تھا کہ رات سر پہ آئی
اڑنے چگنے ميں دن گزارا
پہنچوں کس طرح آشياں تک
ہر چيز پہ چھا گيا اندھيرا
سن کر بلبل کی آہ و زاری
جگنو کوئی پاس ہی سے بولا
حاضر ہوں مدد کو جان و دل سے
کيڑا ہوں اگرچہ ميں ذرا سا
کيا غم ہے جو رات ہے اندھيری
ميں راہ ميں روشنی...