کیا آپ دونوں مجھے داد و ستائش دے سکتے ہیں
کیا یہ ممکن ہے جناب میرا حوصلہ بڑھا سکتے ہیں
کیا آپ میری محبتوں چاہتوں کے جواب میں
کچھ مزید وقت اشعار پڑھنے کے لیئے دے سکتے ہیں
کیا آپ میری میٹھی میٹھی بھینی بھینی باتوں کو
اجنبی جِن ماموں کی پڑوسن پری تک پہنچا سکتے ہیں
:grin: ۔۔ سوری شوری۔۔۔
عرض کیا ہے۔۔۔
وہ مشاعرہ لوٹتے ہیں، ہم اپنی جیب بچاتے ہیں
وہ انڈے ٹماٹر مارتے ہیں، ہم کیچ کر کے کھاتے ہیں :grin:
۔۔۔ اور عرض کیا ہے۔۔۔
چُلّو بھر پانی پینے کو جی چاہتا ہے
پر دل ہے کہ مانتا نہیں، نہانے کو مچلتا ہے
واہ واہ ۔۔کیا بےتکی شاعری کر رہے ہیں موصوف میاں چنوں۔۔۔۔خواتین و حضرات...
معزز و محترم شاملِ محفل شاعر حضرات بے ادباء و بے تکاں مشاعرہ ۔۔۔۔اور قابلِ تعریف رونقِ محفل ہر دل باربار عزیز فیمیلز آپ لوگوں کے سامنے اب میں محفل میں سب سے زیادہ ٹماٹر اور انڈے کھانے والے شاعرِ خود کو دعوت دیتا ہوں کہ میں آپ لوگوں کو اپنے تازہ کلام میں سے کچھ پرانے اشعار گوش گزار کروں۔۔۔۔۔...
واہ واہ ۔۔ بہت ہی عمدہ لاجواب۔۔۔ کیا کہنے ہیں محترمہ کے۔۔ ۔۔ محفل لوٹ لی آپ نے تو۔۔۔ واہ واہ۔۔جتنی تعریفیں کی جائیں کم ہیں ۔۔۔عمدہ الفاظ کم پڑ رہے ہیں تعریف کرنے کے لیئے۔۔۔ :grin:
غزل
( قمر نقوی نقشبندی)
عجب ہے وجد کا عالم دمِ دیدار، اللہ ہو!
مگر یہ خوش نصیبی، میںہوں پیشِ یار، اللہ ہو!
ابھی راز اُن کا کھلنے کی تو منزل ہی نہیں آئی
کہ میں خود ہوں ابھی منجملہء اسرار، اللہ ہو!
گلستاں کے مناظر رفتہ رفتہ مرتے جاتے ہیں
کوئی تو نقشِ تازہ، یا اولی الابصار، اللہ ہو...
غزل
(پرکاش فکری - ہندوستان)
ان پانیوں میں خوب نہانے کو جی کرے
سارے دکھوں کا بوجھ بھلانے کو جی کرے
انجان سی صدائیں جو آتی ہیں دور سے
دیوانگی کے دشت میں جانے کو جی کرے
ان پربتوں کی چھاؤں میں سوئے سکوت کو
کر کے بلند چیخ ڈرانے کو جی کرے
بجھنے لگی ہے شام اندھیروں کی گود میں
ہر سمت...
غزل
(کاوش بدری)
ایک سجدہ خوش گلو کے آگے سہواً ہوگیا
اس پہ کوئی معترض ہوگا تو قصداً ہوگیا
کفر کا فتویٰ صادر ہوا تو خوش قسمت تھا میں
تذکرہ میرا بھی ہر مسجد میں ضمناً ہوگیا
آناً و فاناً کس نے دستگیری کی میری
کام تھا مشکل کا، اہلاً و سہلاً ہوگیا
طوعاً و کرہاً بڑھاتے ہیں ملاقاتیوں کو...
مدحتِ فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا
کیا تجلی ہے کہ خورشید فلک چکر میں ہے
نور ہے مرکز پہ لیکن روشنی منظر میں ہے
(شمیم امروہوی)
زہرا سلام اللہ علیہا ہیں یوں خیال سخنور کے آس پاس
خوشبوئے پاک جیسے گل تر کے آس پاس
(نوشہ امروہوی)
نہیں وہ بے وفا ہو ہی نہیں سکتا زمانے میں
ترے غازی کا جو پرچم اٹھائے...