اسرار ہیں موجود ترے جبکہ تہِ خاک
یا
ہیں زیست کے اسرار تو پوشیدہ تہِ خاک
کیوں تجھ کو لبھاتی ہے مگر وسعتِ افلاک
وہ پتھروں کو گریہ سنایا ہے کہ آخر
نالوں نے مرے کر دیا سینے کو مرے چاک
یا
وہ پتھروں کو گریہِ دل سوز سنایا
گلیوں میں لیے پھرتا ہوں اب سینہِ صد چاک
تسلیم کہ کچھ وجہِ مسرت میں نہیں ہوں
پر...