مثال خوب دی ہے آپ نے۔ :)
مجبور عوام حکومت کو کیسے مجبور کرسکتی ہے بھلا ! :p
اور اگر کر سکتی تو یقیناً لوڈ شیڈنگ کے خاتمے کے لئے کرتی۔ :)
اگر دھرنے اور احتجاج سیاسی مقاصد کے بجائے عوامی مسائل کے لئے ہونے لگے تو پھر سیاسی لوگ کہاں جائیں گے۔ :):D
اچھی شاعری، خوش گلو لوگوں کی آواز میں سننے کا اپنا لطف ہے۔ ہلکی پھلکی موسیقی بھی اچھی لگتی ہے۔
رہی بات لوگوں کے طرزِ زندگی کی تو بگاڑ ہمیشہ غیر محسوس طریقے سے ہی آتا ہے۔ آج کے دور میں جہاں کچھ گھرانے ایسے بھی ہیں جہاں (ہر طرح ) کی ہندوستانی فلمیں سارا گھر بیٹھ کر دیکھتا ہے وہیں کچھ گھرانوں میں...
یہ بات بھی بالکل ٹھیک ہے کہ غیر ملکی پروگراموں کے ساتھ ساتھ ملکی چینلز کے پروگرام بھی باقاعدہ مانیٹر کئے جائیں کہ یہاں بھی حالات دن بدن ابتر ہوئے جار رہے ہیں اور قیمت کو قدروں پر ترجیح دی جارہی ہے۔
لیکن سوال پھر وہی ہے کہ ایسا کون کرے۔
ہم کو اُن سے وفا کی ہے اُمید
جو نہیں جانتے وفا کیا ہے
ماشاءاللہ ۔۔۔۔!
ایک بہت ہی شگفتہ اور پُر لطف تحریر۔۔۔۔!
ان کے کرداروں کا بہت ذکر ہے اس لڑی میں۔ چلیے مرزا صاحب سے تو ہمارے ذہن میں ایک نام آتا ہے لیکن یہ رائے صاحب؟ :) :) :)
خوبصورت تحریر پر مبارکباد قبول کیجے۔ :)
دارصل یہ کام حکومتی ادارہ برائے ضابطہ داری ء الیکٹرانک میڈیا کے کرنے کے ہیں۔ لیکن حکومت کے باقی اداروں کی طرح یہ ادارہ بھی صرف سیاسی مقاصد کے لئے استعمال ہو رہا ہے۔
ان سب سستے پروگراموں سے مقامی انڈسٹری کو نقصان پہنچ رہا ہے۔ پاکستانی اشتہاری صنعت بھی متاثر ہو رہی ہے۔ بے حیائی کو فروغ مل رہا ہے۔ اور بھی نہ جانے کیا کیا۔
اگر غیر ملکی پروگراموں کی تعداد آٹے میں نمک کے برابر ہو تو تو پھر بھی قابلِ قبول ہے، تاہم نمک میں آٹا ملانے کو کسی طرح نہیں سراہا جا سکتا۔
کاش ایسا ہو سکے۔ لیکن پاکستان میں فی الحال ایسا ہونا بعید از قیاس و خواب و خیال ہے۔
شریفوں کے دور میں تو ایسا ہونا اور بھی مشکل نظر آتا ہے۔ ان سے پہلے والے شرفاء بھی اسی فہرست میں شمار کئے جائیں۔
یہ بات واقعی انتہائی تکلیف دہ ہے کہ آٹھ لوگوں کی جان جانے کے باوجود میڈیا "گلو بٹ" کے پیچھے پڑا ہوا ہے اور پولیس جو کہ اس تمام معاملے کی ذمہ دار ہے اس کے معاملے میں میڈیا نے مجرمانہ خاموشی اختیار کی ہوئی ہے۔
اسی مضمون کو جمال احسانی درج ذیل شعر میں بھی باندھا ہے اور خوب باندھا ہے۔
مرے ہی گھر میں اندھیرا نہیں ہے صرف جمالؔ
کوئی چراغ فروزاں کسی کے ہاں بھی نہیں