بے وقوف ہی تو ہیں۔
جو اپنے آنگن میں کانٹے بو کر اپنے دامن میں پھول بھرنے کی کوشش کرتے ہیں۔
جو اپنی مٹی سے بے وفائی کرتے ہوئے یہ بھول جاتے ہیں کہ اُنہیں بالآخر اسی مٹی میں جانا ہے۔
جو اپنے رب سے اپنے لئے امن مانگتے ہیں اور اپنے ہی گھر میں آگ لگا دینے کا باعث بنتے ہیں۔