غزل
سکون دل کے لیے عشق تو بہانہ تھا
وگرنہ تھک کے کہیں تو ٹھہر ہی جانا تھا
وہ جن کو شکوہ تھا اوروں سے ظلم سہنے کا
خود ان کا اپنا بھی انداز جارحانہ تھا
جو اضطراب کا موسم گزار آئیں ہیں
وہ جانتے ہیں کہ وحشت کا کیا زمانہ تھا
بہت دنوں سے مجھے انتظار شب بھی نہیں
وہ رت گزر گئی ہر خواب جب سہانا تھا...