غزل
( استاد زماں سخنورانِ ہند سالک ازلی جناب مغفرت مآب ولی الدّین احمد آبادی المتخلص بہ ولی )
بیوفائی نہ کر خدا سے ڈر
جگ ہنسائی نہ کر خدا سے ڈر
ہے جدائی میں زندگی مشکل
آ جدائی نہ کر خدا سے ڈر
آر سی دیکھ کر نہ ہو مغرور
خودنمائی نہ کر خدا سے ڈر
اے ولی غیر آستانہء یار
جبھ سائی...
غزل
(حیدر علی آتش)
طریقِ عشق میں مارا پڑا ، جو دل بھٹکا
یہی وہ راہ ہے جس میں ہے جان کا کھٹکا
نہ بوریا بھی میسّر ہوا بچھانے کو
ہمیشہ خواب ہی دیکھا کیے چھپر کھٹ کا
شبِ فراق میں اُس غیرتِ مسیح بغیر
اُٹھا اُٹھا کے مجھے، دردِ دل نے دے پٹکا
پری سے چہرہ کو اپنے وہ نازنیں...
غزل
(ہری چند اختر)
شباب آیا، کسی بُت پر فدا ہونے کا وقت آیا
مری دنیا میں بندے کے خدا ہونے کا وقت آیا
تکلّم کی خموشی کہہ رہی ہے حرفِ مطلب سے
کہ اشک آمیز نظروں سے ادا ہونے کا وقت آیا
اُسے دیکھا تو زاہد نے کہا، ایمان کی یہ ہے
کہ اب انسان کو سجدہ روا ہونے کا وقت آیا
خدا جانے یہ ہے...
غزل
(شیخ ابراہیم دہلوی متخلص بہ ذوقؔ)
وقتِ پیری شباب کی باتیں
ایسی ہیں جیسے خواب کی باتیں
اُسکے گھر لے چلا مجھے دیکھو
دلِ خانہ خراب کی باتیں
واعظا چھوڑ ذکرِ نعمت خُلد
کر شراب و کباب کی باتیں
تجھ کو رسوا کریں گی خوب، اے دل
تیری یہ اضطراب کی باتیں
سُنتے ہیں اُس کو چھیڑ چھیڑ...
مرثیہ
(میر ببر علی انیس)
رنجِ دُنیا سے کبھی چشم اپنی نم رکھتے نہیں
جُز غمِ آلِ عبا ہم اور غم رکھتے نہیں
کربلا پُہنچے زیارت کی ہمیں پروا ہے کیا؟
اب ارم بھی ہاتھ آئے تو قدم رکھتے نہیں
در پہ شاہوں کے نہیں جاتے فقیر اللہ کے
سر جہاں رکھتے ہیں سب، ہم واں قدم رکھتے نہیں...