یعنی اُس وقت "سودے بازی" ہوتی تو عمران خان کی پوزیشن مستحکم تھی۔ اگر اُس وقت استعفیٰ کے ضد پر اڑنے کے بجائے انتخابی اصلاحات کے لئے بات کی جاتی تو مستقبل میں بہت سود مند رہتا۔
اب تو پھر سے بساط بچھائی جا رہی ہے نا ۔۔۔! اب بھی اگر استعفیٰ ہی پہلی ترجیح رہا تو کافی مشکل ہو جائے گی۔