غزل
(روش صدیقی)
وہ برقِ ناز گریزاں نہیں تو کچھ بھی نہیں
مگر شریکِ رگِ جاں نہیں تو کچھ بھی نہیں
ہزار، دل ہے ترا مشرقِ مہ و خورشید
غبارِ منزلِ جاناں نہیں تو کچھ بھی نہیں
سکونِ دل تو کہاں ہے، مگر یہ خوابِ سکوں
نثارِ زلفِ پریشاں نہیں تو کچھ بھی نہیں
گذر چکی تری کشتی ہزار طوفاں سے...
غزل
(شباب، بدایونی)
کھوگیا تیری چاہ میں ، مٹ گیا تیری راہ میں
پھر بھی ہوئی نہ قدر کچھ دل کی تری نگاہ میں
دل نے یہ کہہ کے بارہا ہوش ہمارے کھو دئے
کہئے تو کیا نظر پڑا یار کی جلوہ گاہ میں
پرسش حال سے غرض؟ عذرِ ستم سے فائدہ؟
اب کوئی آرزو بھی ہو میرے دل تباہ میں
دیکھ فریبِ التفات...
غزل
(سید عبدالحمید عدم)
مضطرب ہوں جلوہءِ اُمید باطل دیکھ کر
لرزہ بر اندام ہوں بیتابئ دل دیکھ کر
ناخدائے دل کو موجوں سے یہ کیسا ربط ہے
ماہیء بے آب ہو جاتا ہے ساحل دیکھ کر
وقتِ آخر ہم نہ ٹھہرے بارِ دوشِ دوستاں
رُوح خوش ہے مرگِ غربت کا یہ حاصل دیکھ کر
زعمِ عقل و فہم اِک نادانئ...
رہرو اور رہزن
(سید عبدالحمید عدم)
رواں ہیں رہروؤں کے قافلے صحرائے وحشت سے
یہ کیسے لوگ ہیں لڑنے چلے ہیں دیو فطرت سے
وہ ظُلمت ہے کہ ہیبت کا فرشتہ کانپ جاتا ہے
وہ تاریکی ہے شیطانوں کا دل بھی خوف کھاتا ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔
اسی سنسان تاریکی کے وسعت گیر دامن میں
اسی سنسان خاموشی کے بے تنویر مسکن...
سخنور صاحب، محمد احمد بھائی ، وارث صاحب، فاتح صاحب آپ تمام محترم ہستیوں کو ہمارا پیش کیا ہوا کلام پسند آتا ہے۔۔ بخدا۔ واللہ ، یہ میرے لیئے کسی ایوارڈ سے کم نہیں۔۔اور یہی میرے لیئے کافی ہے۔۔خوش رہیں۔
محبت، عشق، یہ سب منزلیں ہیں راہِ عرفاں کی
جسے سمجھے ہو دردِ دل حلاوت ہے وہ ایماں کی
کتابِ عشق کا باب محبت جب سے کھولا ہے
کتاب عقل زینت بن گئی ہے طاقِ نسیاں کی
(تپاں)