نتائج تلاش

  1. الف عین

    جلتا ہوا چراغ تو اب بھی ہوا میں ہے

    ویسے تمہاری چھوٹی بحر کی غزلوں میں اکثر کوئی سقم نہیں ہوتا لیکن اس درمیانی بحر، کہ یہ بھی کوئی طویل بحر نہیں، میں تقریباً ہر شعر میں روانی کی کمی محسوس ہو رہی ہے۔ زیادہ تر حروف کے اسقاط کی وجہ سے۔ ذرا خود ہی روائز کر کے دیکھیں
  2. الف عین

    برائے اصلاح

    یہ خوب ہے سادگی جرم اگر نہ کہلاتی فلسفیؔ، فلسفی نہیں رہتا لیکن مطلع اب بھی پسند نہیں آیا
  3. الف عین

    برائے اصلاح

    مطلب 'کیا' کا 'کَ' تقطیع کیا جانا؟ ضرور کیا جا سکتا ہے لیکن کچھ صورتوں میں نہیں، جیسے متصل الفاظ میں حروف کا اسقاط ہو
  4. الف عین

    برائے اصلاح

    کئی حروف کا گرنا ناگوار گزر رہا ہے الفاظ بدل کر پھر کوشش کریں جیسے ظرف ساقی کو مرا تم نے بتایا ہوتا کو تم نےساقی کو مرا ظرف بتایا ہوتا زیادہ رواں ہے یہ بحر سے خارج ہیں غیر حالت سے مری، رازِ محبت کھل گیا اور کاش تو نے بھی کبھی دنیا کو بھلایا ہوتا
  5. الف عین

    برائے اصلاح

    نہیں میاں، دونوں متبادل کچھ جم نہیں رہے
  6. الف عین

    ی۔ ہ۔ و ۔۔ نئی لڑی نمبر 20

    زبردست لیکن اب تو صبح ہو چکی ہے!
  7. الف عین

    ا۔ب۔پ ۔۔۔۔۔ کھیل نمبر 62

    زور زبردستی تو نہیں ہے لیکن ذرا سی دیر کے لیے کیوں؟
  8. الف عین

    ا۔ب۔پ ۔۔۔۔۔ کھیل نمبر 62

    جب آئی تھی ثمرین تب بھی چائے بنا کر تو نہیں دی، مجھے خود ہی بنانی پڑی
  9. الف عین

    ی۔ ہ۔ و ۔۔ نئی لڑی نمبر 20

    ظرافت میں اڑا دیں سنجیدہ بات کو، سوچنے کی ضرورت نہیں
  10. الف عین

    تُمھارے کوچے سے چلے بھی جائیں، تو کریں گے کیا؟

    مجھے تو یہ بحر بلکہ زمین پسند نہیں آئی۔ اگر حروف کے اسقاط سے بچا جا سکے تو قبول کی جا سکتی ہے لیکن موجودہ شکل میں کئی جگہ حروف کا گرنا اچھا نہیں لگتا۔ مجھے بھی یہ پسند نہیں کہ ایک ہی بیان کو دو مصرعوں میں ادا کیا جائے۔
  11. الف عین

    غزل برائے اصلاح

    محض اغلاط کی نشاندہی کر رہا ہوں غریب کر کے ہمیں ہے چھوڑا تمہیں نے لوٹا وطن ہمارا حساب دینا پڑے گا تم کو کیوں ہے لوٹا چمن ہمارا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کیوں کا تلفظ کئی بار بتا چکا ہوں کہ 'کو' ہو گا.، کِ یو' نہیں ہے چھوڑا .. رواں نہیں دعا نہ دے گا غریب تم کو سکون تم بھی نہ پا...
  12. الف عین

    برائے اصلاح

    مطلع اور مقطع کے درمیان سارے؛اشعار درست ہیں جب کوئی دل میں ہی نہیں رہتا میں ہی کی وجہ سے روانی متاثر ہے یوں کہو تو... دل میں جب کوئی بھی نہیں رہتا لوگ سادہ سی گفتگو کرتے تو میں بھی فلسفیؔ نہیں رہتا پہلا مصرع بیان کے اعتبار سے نا مکمل ہے دوسرے میں 'مَبی' تقطیع ہونا ناگوار ہے سادہ باتیں ہیلوگ...
  13. الف عین

    جوش ملیح آبادی :::::یہ دُنیاذہن کی بازی گری معلُوم ہوتی ہے ::::: Josh Maleehabadi

    ریختہ میں شاید کسی نے یہ سوچ کر جوش کا تخلص لگا کر اچھے بھلے شعر میں ع کا وصل کرا کر سقم پیدا کر دیا ہے جس کی جوش جیسے قادر الکلام شاعر سے امید نہیں کی جا سکتی
  14. الف عین

    برائے اصلاح

    اس قدر زور سے سرخ آندھی چلی ہے. جیسے کیسا رہے گا؟
  15. الف عین

    ی۔ ہ۔ و ۔۔ نئی لڑی نمبر 20

    نسیاں اور نسواں میں کنفیوز تو کوئی نہیں ہے نا!
  16. الف عین

    لوٹ لے جتنی لوٹنی ہے دھوپ - منیبؔ احمد

    اچھی غزل ہے لیکن دو باتیں تنقیدی طور پر روٹھنی قافیہ غلط ہے اور آخری شعر میں 'ہے' کے بغیر 'دھوپ' پسند نہیں آیا
  17. الف عین

    ا۔ب۔پ ۔۔۔۔۔ کھیل نمبر 62

    صاد کرتا ہوں میں بھی اس پر، وعلیکم السلام
  18. الف عین

    برائے اصلاح

    نہ جانے کس دھن میں لگتا ہے کا الف گرا ہوا سمجھا! البتہ چلی ہے کی جگہ جو چلی یقیناً رواں ہے۔ لگتا ہے ایک اور مصرع کا اختتام ہے ورنہ یہاں بھی 'یوں لگتا ہے' بہتر ہے
  19. الف عین

    راہَ حق برائے اصلاح

    توکّل جن کا رب پر ہو وہ گھبرایا نہیں کرتے زباں پر وہ شکائت تو کبھی لایا نہیں کرتے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ دوسرے مصرعے میں 'تو' بھرتی کا ہے لیکن متبادل مصرع میری سمجھ میں بھی نہیں آ رہا ہے ہمیشہ بات کرتے ہیں خدا کی اُس کے بندوں سے کبھی دنیا کی باتوں میں وہ الجھایا نہیں کرتے...
Top