کفارہ ، ایک جائزہ
محمد خلیل الر حمٰن
پروین شاکر اپنی خوشبو کے دریچہءگل سے لکھتی ہیں ۔
‘‘برس بیتے، گئی رات کے کسی ٹھہرے ہوئے سناٹے میں اس نے اپنے رب سے دعا کی تھی کہ اس پر اس کے اندر کی لڑکی کو منکشف کردے۔ مجھے یقین ہے، یہ سن کر اس کا خدا اس کی سادگی پر ضرور مسکرایا...