جناب کامران اختر صاحب، لیجیے ( بھائی قاری عبدالرزاق کی فرمائش پر) ہماری صلاح حاضر ہے۔ اصلاح کا کام اساتذہ ہی کو ساجھے، سو وہ آپ کی جانب متوجہ ہوگئے ہیں، امید قوی رکھیے کہ جلد ہی آپ کی اس خوبصورت غزل کو شنوائی ملے گی۔
چلتا ہوں مگر کیسے ، یہ در چھوڑ کے جاؤں = جاتا ہوں مگر کیسے یہ در چھوڑ کے جاؤں...