آئنے کا ساتھ پیارا تھا کبھی
ایک چہرے پر گزارا تھا کبھی
آج سب کہتے ہیں جس کو ناخدا
ہم نے اس کو پار اتارا تھا کبھی
یہ مرے گھر کی فضا کو کیا ہوا
کب یہاں میرا تمہارا تھا کبھی
تھا مگر سب کچھ نہ تھا دریا کے پار
اس کنارے بھی کنارا تھا کبھی
کیسے ٹکڑوں میں اسے کر لوں قبول
جو مرا سارے کا سارا تھا کبھی...