باجوہ ڈبل گیم ہی تو کر رہے تھے۔ کبھی ایک کو ریلیف، تو کبھی دوسرے کو۔ جو کوئی پھنس گیا، اسے نکال لیا۔ گالیاں دیں تو برداشت کر لیں۔ اب تو تقریباََ ثابت ہو چکا ہے کہ وہ یا ان کے احباب بد عنوانی میں ملوث رہے تو پھر ان سے اس سے زیادہ کیا توقع کی جا سکتی ہے۔ اگر باجوہ ایسے تھے تو عمران خان ان سے...
جنرل فیصل نصیر اس دھڑے کی نمائندگی کرتے ہیں جو اینٹی عمران کہا جا سکتا ہے مگر باجوہ تو زیادہ تر نیوٹرل تھے اور معاملات کو ٹھنڈا کرنے کی کوششوں میں مصروف رہے۔
بقول میر
اب نہ وہ جوش تمنا باقی
اب نہ وہ عشق کی وحشت ہے مجھے
مجھے لگتا ہے کہ وہ اس کھیل سے بے زار ہو چکے تھے۔ یعنی کہ بارہ ارب (جیسا کہ میڈیا رپورٹس میں بتایا جا رہا ہے)اپنے حصے کے سمیٹے اور پتلی گلی سے نکل لیے۔
پہلے باجوہ کے ہوتے ہوئے انہیں کسی حد تک بوجوہ پروٹیکشن حاصل تھی مگر جب وہ آل آؤٹ جائیں گے تو وفاقی حکومت مرتا کیا نہ کرتا کے مصداق آل آؤٹ جا سکتی ہے۔ میں تو سمجھتا ہوں کہ مقدمات میں تو جان ہوتی ہی نہیں، یا پیدا ہی نہیں کی جاتی، وگرنہ پھنسائے جانے کے لیے ایک معمولی مقدمہ بھی بہت ہوتا ہے۔ ایسا...
جس طرح پی ڈی ایم کو یہ خوف تھا کہ باجوہ کے بعد فیض تین یا چھ سال کے لیے بطور آرمی چیف مسلط ہو جائیں گے اور ان کی شامت اعمال لائیں گے، بعینہ یہی خوف عمران خان اینڈ کمپنی کو بھی ہے کہ اگر عام انتخابات کا ڈول جلد نہ ڈالا گیا تو ان پر بہت زیادہ کیسز کھل سکتے ہیں، وہ زیادہ وقت گزرنے پر کم مقبول ہو...
بات سیدھی سی ہے کہ عمران خان حکومت سے نکالے جانے کے بعد بہت زیادہ مقبول ہو چکے ہیں اور جلد انتخابات کا مطالبہ کرنے میں حق بجانب ہیں۔ اسمبلیاں توڑنے کا آپشن بھی ان کے پاس موجود ہے جسے وہ استعمال کر سکتے ہیں اس لیے بہتر آپشن بظاہر یہی ہے کہ حکومت تحریک انصاف کے ساتھ مذاکرات کرے اور ملک میں مارچ...
عدم اعتماد کی تحریک پیش کرنا اپوزیشن کا حق ہے جسے حیلے بہانے سے روکنا غلط اور غیر جمہوری رویہ ہے۔ یہ بات اپنی جگہ درست کہ اسمبلی تحلیل کرنا وزیراعلیٰ کا صوابدیدی اختیار ہے۔
آئین و قانون کے دائرے میں رہ کر سیاسی جماعتیں اور طاقت ور ادارے پاکستان کے ساتھ کھلواڑ میں مصروف ہیں۔ میرے خیال میں، سیاسی لحاظ سے لانگ مارچ سے بہتر حکمت عملی یہی تھی جو تحریک انصاف نے اب اپنائی ہے ۔ بہتر یہی ہے کہ وفاقی حکومت اپوزیشن کا جلد الیکشن کا مطالبہ تسلیم کر لے بالخصوص اس صورت میں کہ...