جو منظر بجھ رہا ہے منتظر کِن ساعتوں کا ہے
اُفق پر دیر سے ٹھہرا ہُوا سایہ گھروں کا ہے
میں اپنے داغ داغِ سینۂ بے سوز سے خوش ہُوں
دلِ حسرت زدہ میں ایک منظر روزنوں کا ہے
نشیمن میں ہے اک منقار، دو وحشت زدہ آنکھیں
دھواں پھیلا ہُوا چاروں طرف جلتے پروں کا ہے
کسی گوشے میں سوتی ہے تمنّا اک تعلّق...