تجھے فرصت ہو جو منزل پہ سوالوں سے کبھی
راستہ پوچھ مرے پاؤں کے چھالوں سے کبھی
نکل آگے بھی کتابوں کے حوالوں سے کبھی
آج کے عہد میں مل سوچنے والوں سے کبھی
شیخ نکلا نہیں جنت کے خیالوں سے کبھی
بات آگے نہ گئی چند مثالوں سے کبھی
پیاس بجھتی ہے امنگوں کے پیالوں سے کبھی
مشک ملتا ہے امیدوں کے غزالوں سے...