تو اس بار کسی مستری کو بلا لیتے ہیں، کوئی پلمبر، کوئی گاڑی ٹھیک کرنے والا وہ اچھی تشریح کردے گا اور "لفظی" بھی نہیں عملی ہوگی۔ مولوی تو چونکہ ساری عمر جھک مارتا ہے، فقہ حدیث کی بجائے نجانے کیا الم غلّم اپنے دماغ میں ٹھونستا رہتا ہے۔
ادارے کی بدنامی سے ویسے بھی کیا ہوجائے گا۔ ہوگا وہی جو سائیں چاہیں گے۔ یہ گلی محلوں کی مخلوق آہ و بکا کرکے چپ کرجائے گی۔ یہ دھاگہ مقفل ہوجائے گا اور دو چار ماہ کے بعد کسی کو یاد بھی نہیں رہے گا کہ کوئی ایسی بات بھی اس جگہ ہوئی تھی۔ آپ اس سلسلے میں چنداں پریشان نہ ہوں۔
ان کا محور ادارے کی بدنامی نہیں۔ اس ادارے کی نوکر شاہی کی چیرہ دستیاں عوام کے سامنے لانا ہے۔ اور وہ بخوبی لا بھی رہے ہیں۔ اور ہمیں اندازہ بھی ہورہا ہے بلکہ ہوگیا ہے کہ کیسے اوپر والوں اور عوام کو چونا لگایا جارہا ہے اور ان کی آنکھوں میں دھول جھونکی جارہی ہے۔