جو بھی ہوتا ہے ٹھیک ہوتا ہے
آدمی مفت دیدے کھوتا ہے
عقل والے یونہی نہیں بیٹھے
کام میں احمقوں کو جوتا ہے
ایک آنسو ہے آنکھ میں سیلاب
قطرہ بھر دو جہاں بھگوتا ہے
کھل کے ہنستا ہے رونے والا بھی
ہنسنے والا بھی چھپ کے روتا ہے
لوگ پھولوں کے ہار مانگتے ہیں
عشق پھندوں میں سر پروتا ہے
باج کھاتا ہے...