بازار تو ہیں لیکن آفت کی گرانی ہے
جس شہر میں یوسف ہے وہ شہر بھی فانی ہے
جو بیت گئی دل پر آنکھوں کو سنانی ہے
مجرم کی کہانی ہے محرم کی زبانی ہے
وہ حسن کا موجد ہے جو عشق کا بانی ہے
دل اس کا نشانہ ہے درد اس کی نشانی ہے
جوبن پہ ہے یارانہ زاری میں جوانی ہے
مٹی ہے ہواؤں میں اور آگ پہ پانی ہے
دانش...